Miraj-ul-Nabi Sallallahu Alayhi Wa Sallam

Advertisements

Mah-e-Rajab

Har Islami Maheene ki alag fazeelat hai jo k Nabi Kareem sallallahu alayhi wa sallam ne wazia farma di hain. Hazrat Muhammad sallallahu alayhi wa sallam har maheeney main khas ibadat ada farmate the. Mahe Rajab App sallallahu alayhi wa sallam k pasandeeda islami maheenon main se ek hai or App sallallahu alayhi wa sallam ne is maheeney main jo ibadat ki talkeen farmaee hai wo darj zail hain:

Aik Aham Masla

Khana Kaaba Ki Tareekh


Sahaba Ki Fikr-e-Aakhirat

Zahoor-e-Dajjal se Kayamat Tak

بیان حضرت شیث علیہ السلام

جب حضرت آدم علیہ السلام ہابیل کی مصیبت میں بے قرار رہتے تھے اللہ تعالٰی نے جبرائیل امین کو ان کے خاطر غمگین کی تسلی کے واسطے بھیجا کہ حق تعالٰی تیرے سے ایک فرزند پیدا فرمائے گا اور اس کی نسل سے حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سردار بنی آدم پیدا ہو گا چنانچہ ہابیل کے مرنے سے پانچ سال بعد پیدا ہوئے حضرت شیث علیہ السلام جو حسن صورت میں اور خوبی سیرت میں مشابہ حضرت آدم کے تھے اور تمام اولاد سے حضرت آدم کے نزدیک زیادہ محبوب تھے چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام نے قبل وفات کے انکو اپنا ولی عہد بنایا اور بطریق وصیت کے فرمایا کہ جب حضرت نوح کے زمانے میں طوفان واقع ہو تو اور تم اس زمانے کو پاءو تو میری ہڈیوں کو کشتی میں رکھوائیو جو غرق ہونے سے محفوظ رہیں یا اپنی اولاد کو نصیحت کرنا کہ اس طرح سے عمل میں لاویں اور حضرت شیث اکثر اوقات حضرت آدم علیہ السلام کی زبان سے احوالِ بہشت لذت کے ساتھ سنتے تھے اور آسمانی صحیفوں کا مضمون بھی دریافت کرتے تھے اسی واسطے حضرت آدم علیہ السلام کے تجرو خلق سے اور انس حق سے خلیفہ کیا تھا. اور لوگوں سے تنہا ہو کر دنیا کی لذتیں چھوڑ کر اکثر اوقات وظائف اور طاعات میں مشغول رہتے تھے. اور نفس کی ریاضت اور تہزیب و اخلاق ہمیشہ ان کے مدِنظر رہتا تھا اور حضرت شیث کے زمانے میں بنی آدم دو قسم کے تھے. بعض تباعت حضرت شیث کی کرتے تھے اور بعض قابیل کی اولاد کی تابعداری میں مشغول تھے اور حضرت شیث کی نصیحت سے بعض تو راہِ راست پر آ گئے اور بعض بدستور نا فرمانی پر قائم رہے. جب انکی عمر کے نو برس گزرے تو روح جسم مبارک سے پرواز کر کے عرشِ معلٰی کو پہنچی اور حضرت شیث علیہ السلام کی بعض نصیحتوں میں یہ ہے کہ مومن حقیقی وہ ہے کہ جس میں یہ خصلتیں ہوں. اول تو خدا کو پہچاننا اور دوسرے نیک اور بد کو جاننا، تیسرے بادشاہِ وقت کا حکم بجا لانا، چوتھے ماں باپ کا حق پہچاننا اور انکی خدمت کرنا، پانچواں صلہ یعنی اپنائیت کے لوگوں سے نیکی اور محبت کرنا، چھٹے غصہ کو زیادہ حد سے نہ بڑھانا، ساتواں محتاجوں اور مسکینوں کو صدقہ دینا اور رحم کرنا، آٹھویں گناہوں سے پرہیز     اور مصیبت میں صبر کرنا، ناویں شکر الٰہی کا ذکر کرنا.