Miswak Ki Ehmiyat-o-Fazeelat

Advertisements

Namaz Ki Sunnatain

Namaz Islam k 5 stoonon main se e ek hai or iski pabandi insan ko Allah k kareeb tar kr deti hai. Aqeedat se parhi gai namaz main Insan or Allah k darmyan tamam parde hata dye jate hain. Roze jaza-o-saza namaz k bare main poocha jaye ga. Kuch log namaz qayem karne ki ehmiat se aashna nai hain or namaz k doran b is ehsas se door hote hai k ye wakt insan ka or Allah ka hai or duniya k kamon ko yad rakhte hain. Namaz ki adayegi Hazrat Muhammad SAW k bataye hue tareekon k mutabik honi chahye or un sb baton ka dhayan rakhna chahye jin k lye Hazrat Muhammad SAW ne Rahnumaee farmaee hai. Yahan Namaz ki Sunnaton ko ek sath paish kia gya hai. Apni namaz ko Allah ki pasandeeda namaz banaiyee or Allah ko or uske Rasool ko razi kijyee.

Auraton ka Wazoo

Rab Key Olaad Se Paak Hone k Dalayel

Namaz Qazay-e-Umri Parhne ka Tareeqa

Rishwat or Maal Haram

رشوت

سود اور جوا کی طرح رشوت بھی حرام ہے، قرآن حکیم میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہے.

رشوت یہ ہے کہ آدمی ایک کام کے لئے حکومت سے یا کسی ادارہ یا شخص کی طرف سے تنخواہ پاتا ہے، اور پھر بھی اسی کام کے کرنے کے لئے وہ کچھ اور معاوضہ لیتا ہے، مثال کے طور پر ایک دفتر کا کلرک اس لئے مقرر ہے کہ وہ لوگوں کا پاسپورٹ بنا دیا کرے، اب اگر پاسپورٹ بنانے میں تنخواہ کے علاوہ پاسپورٹ بنوانے والے سے اس نے کچھ لیا تو رشوت ہو گی، کیونکہ اس کو اس کام کا معاوضہ مل رہا ہے، اب یہ رقم وہ کس چیز کے بدلے میں لے رہا ہے، رشوت یہ بھی ہے کہ کسی عہدہ کی وجہ سے اس کو کوئی تحفہ اور ہدیہ ملے.

ایک بار ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لئے مقرر فرمایا، جب وہ واپس ہوا تو اس نے کہا کہ اتنا مال زکوٰۃ کا ہے اور اتنا مال مجھے ہدیہ ملا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا کہ وہ اپنے گھر میں ہیٹھے تو پھر دیکھے کہ کون ہدیہ اس کو دیتا ہے، یعنی یہ ہدیہ عہدہ کی وجہ سے ملا ہے.

حدیث مبارکہ ہے
ترجمہ: رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں
اور احادیث میں رشوت لینا ایسا گناہ ہے کہ جسے کفر کے قریب تر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا. لوگوں میں رشوت لینے اور دینے کا طریقہ با لکل عام ہو گیا ہے.

ایک حدیث میں ہے کہ لوگ لمبی لمبی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کا کھانا اور ان کا لباس حرام ہے (یعنی حرام مال سے تیار کیا گیا ہے. لہٰزہ وہ بھی حرام ہے) پھر ایسے لوگوں کی دعائیں کیونکر قبول ہو سکتی ہیں ( دعائیں تو دعائیں انکی عبادات کی مقبولیت بھی خطرے میں ہے) صحیح مسلم