رشوت

سود اور جوا کی طرح رشوت بھی حرام ہے، قرآن حکیم میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہے.

رشوت یہ ہے کہ آدمی ایک کام کے لئے حکومت سے یا کسی ادارہ یا شخص کی طرف سے تنخواہ پاتا ہے، اور پھر بھی اسی کام کے کرنے کے لئے وہ کچھ اور معاوضہ لیتا ہے، مثال کے طور پر ایک دفتر کا کلرک اس لئے مقرر ہے کہ وہ لوگوں کا پاسپورٹ بنا دیا کرے، اب اگر پاسپورٹ بنانے میں تنخواہ کے علاوہ پاسپورٹ بنوانے والے سے اس نے کچھ لیا تو رشوت ہو گی، کیونکہ اس کو اس کام کا معاوضہ مل رہا ہے، اب یہ رقم وہ کس چیز کے بدلے میں لے رہا ہے، رشوت یہ بھی ہے کہ کسی عہدہ کی وجہ سے اس کو کوئی تحفہ اور ہدیہ ملے.

ایک بار ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لئے مقرر فرمایا، جب وہ واپس ہوا تو اس نے کہا کہ اتنا مال زکوٰۃ کا ہے اور اتنا مال مجھے ہدیہ ملا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا کہ وہ اپنے گھر میں ہیٹھے تو پھر دیکھے کہ کون ہدیہ اس کو دیتا ہے، یعنی یہ ہدیہ عہدہ کی وجہ سے ملا ہے.

حدیث مبارکہ ہے
ترجمہ: رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں
اور احادیث میں رشوت لینا ایسا گناہ ہے کہ جسے کفر کے قریب تر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا. لوگوں میں رشوت لینے اور دینے کا طریقہ با لکل عام ہو گیا ہے.

ایک حدیث میں ہے کہ لوگ لمبی لمبی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کا کھانا اور ان کا لباس حرام ہے (یعنی حرام مال سے تیار کیا گیا ہے. لہٰزہ وہ بھی حرام ہے) پھر ایسے لوگوں کی دعائیں کیونکر قبول ہو سکتی ہیں ( دعائیں تو دعائیں انکی عبادات کی مقبولیت بھی خطرے میں ہے) صحیح مسلم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: